8 فروری 2026 - 10:03
مآخذ: ابنا
اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے

اسرائیل میں ایک بار پھر ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل میں ایک بار پھر ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے حکومت پر ناکامیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے فوری جواب دہی کا مطالبہ کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتہ کی شب ہزاروں اسرائیلی شہریوں نے احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی اور مطالبہ کیا کہ سات اکتوبر 2023 کو ہونے والے آپریشن ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ کو روکنے میں اسرائیلی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی ناکامی کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت نہ صرف اس بڑے سیکیورٹی دھچکے کو روکنے میں ناکام رہی بلکہ بعد ازاں شروع کی گئی جنگ بھی اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی۔ احتجاج کے دوران نیتن یاہو کے استعفے اور قبل از وقت انتخابات کے مطالبات بھی سنائی دیے۔

واضح رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو فلسطینی مزاحمت، جس کی قیادت حماس کر رہی تھی، نے غزہ کے اطراف صہیونی بستیوں اور فوجی اڈوں پر اچانک حملہ کیا تھا، جس کے دوران متعدد اسرائیلی فوجی ٹھکانے نشانہ بنے اور درجنوں اسرائیلیوں کو قید میں لیا گیا۔

اس کے بعد اسرائیل نے غزہ کے خلاف شدید فضائی اور زمینی حملے شروع کیے اور یہ گمان کیا گیا کہ چند ہی دنوں میں مزاحمتی گروہوں کو ختم کر دیا جائے گا، تاہم جنگ طویل ہوتی چلی گئی۔

اکتوبر 2023 سے جاری اس جنگ کے نتیجے میں اب تک 71 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ غزہ کے تقریباً 70 فیصد مکانات اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔ محاصرہ، قحط اور شدید انسانی بحران نے علاقے کی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

ان حالات کے باوجود اسرائیلی حکام خود تسلیم کر چکے ہیں کہ وہ نہ تو حماس کو ختم کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں اور نہ ہی غزہ میں قید اسرائیلیوں کو واپس لا سکے ہیں، جس کے باعث نیتن یاہو حکومت کو اندرونی سطح پر شدید دباؤ اور عوامی غصے کا سامنا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha